لڑکی کو پیسوں کی شدید ضرورت تھی
خوبصورت لڑکی
ایک خوبصورت لڑکی، رات کا وقت، 10 بج گئے، مجبوریوں سے گھِری وہ حسینہ جس کا حُسن جہاں اُس کیلئے نعمت سے کم نہیں وہاں اُس کا یہی حُسن اُسی کے گلے کا طوق بھی بن سکتا ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ بھائی کا علاج کروانا ہے، مجبوری یہ کہ باپ کام کاج کے قابل نہیں بوڑھا ہو چُکا، مجبوری یہ کہ بڑی بہن جو غربت سے لڑتے ہوئے پڑھائی سے ہاتھ دھو بیٹھی، مجبوری یہ کہ اُس بہن کا رشتہ نہیں ہو رہا۔۔۔رشتے والے کہتے ہیں کہ اپنا خزانہ یعنی کہ اپنی بیٹی بھی دو اور ساتھ دیگر فرمائشیں جو چھوٹی بہن اور ایک بوڑھا باپ پوری نہیں کر سکتے۔
وہ جوان اور خوبصورت لڑکی اپنے گھر سے اِن مجبوریوں کیساتھ نِکلتی ہے لیکن کون دیکھتا ہے مجبوریاں لوگ تو مجبوری سے فائدہ اُٹھانا جانتے ہیں وہ لوگ چاہے اپنے ہوں یا پرائے۔ با ہمت بھی خوبرو بھی لیکن بے چاری لڑکی جس کو یہ نہیں معلوم کہ وہ اپنی مجبوریوں کیساتھ ایک ایسی نگری میں قدم رکھ چُکی ہے جہاں بظاہر تو لوگ انسان لگتے ہیں لیکن اندر سے شیطان یا جن ہیں، یہ وہ نگری ہے کہ جہاں اِس سے پہلے بھی مرد و عورت شکار ہوتے رہے ہیں۔
لڑکی اپنے حسن کو پردے سے ڈھانپے جب نوکری کیلئے در در ٹھوکریں کھاتی ہے، کوئی کہتا ہے اپنے حسن کے جلوے سرِعام بکھیرو گی تو ہی نوکری ملے گی، کوئی کہتا ہے ٹائٹ لباس پہن کے آو گی تا کہ ہمارے کسٹمرز کو انٹرٹین کر سکو تو ہی نوکری ملے گی، کوئی کہتا ہے کہ میری خواہشات پوری کرو گی تو ہی نوکری کا حصول ممکن ہے، جب تھک ہار جاتی ہے تو لڑکی کو پیچھے سے ایک ضعیف کی کانپتی آواز آتی ہے لڑکی کو کہتا ہے کہ تمہارے پاس تو تعلیم بھی ذیادہ نہیں پیسہ بھی نہیں تم مجبور ہو اور مجبور تو ایک ہڈی کی مانند ہے جس کے پیچھے زبان نکالے بھوکے کُتے پڑے ہیں تم نہیں تو اور ہو گا لیکن یہ سلسلہ نہیں رُکنے والا، لڑکی پلٹ کے جب دیکھتی ہے تو کوئی نہیں ہوتا۔
لڑکی گھر کیلئے روانہ ہوتی ہے رات کے 10 بج چُکے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے ایسا منظر کے انسان خوف سے لرز جائے لیکن اُس لڑکی کو گھر کی پریشانیوں نے ایسے گھیرا ہوا تھا کہ اُس کیلئے سنسان جگہ اور اندھیرے کے خوف سے بڑی اُس کی مجبوریاں اور پریشانیاں تھی، کچھ ہی دُور ایک ڈھابہ ہے اور آس پاس کچھ بھی نہیں وہ وہاں پہنچتی ہے وہاں سے ہی اُس کے گھر کی طرف بس جانی ہے وہ بس کا انتظار کرنے لگتی ہے، ڈھابے پہ لوگوں کی بھِیڑ بڑھنے لگتی ہے وہ ڈھابے سے ہٹ کے اندھیرے میں درخت کے نیچے کھڑی ہو جاتی ہے، ڈھابے پہ کھڑے کچھ لوگوں کے ذہن میں آتا ہے لڑکی اکیلی ہے اور سائیڈ پہ چلی گئی ہے لگتا ہے سگنل دے رہی ہے، وہاں ہی موجود کچھ لوگوں نے سوچا کہ لڑکی تنہا ہے جب تک وہ چلی نہیں جاتی ہم اُس پر حفاظتی نگاہ رکھیں گے۔
معلوم نہیں کہ لڑکی گھر پہنچی یا نہیں اگر پہنچ گئی تو صحیح سلامت پہنچی یا نہیں۔
جہاں لوگ بُرے ہیں وہاں کچھ اچھے بھی ہوتے ہیں۔
ازقلم: علی نواز

Post a Comment
image quote pre code